معاشرے میں بین المذاھب ہم آہنگی ، قومی یک جہتی ،اور امن و اتحاد کو فروغ دینے کے لئے جم خانہ کلب میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا..

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ

سرگودھا(محمد تہور بلال اصغر سے)

جس میں ڈی پی او سرگودھا محمد فیصل کامران سمیت علماء کرام اور مینارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

تفصیلات کے مطابق جم خانہ کلب سرگودھا میں کمیونٹی کنسرن گروپ کرسچن سٹڈی سنٹر اور میثاق سنٹڑ کی جانب سے سیمینار "بعنوان بین المذاہب ہم آہنگی اور مساوی شہری” کے نام سے انعقاد کیا گیا جس میں ڈی پی او سرگودھا فیصل کامران ، ایڈیشنل ڈپی کمنشنر ارشد وٹو ، بشپ عزرایا کی خصوصی شرکت کے ساتھ ساتھ دیگر مذہنی و سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔ کمپیرئنگ کے فرائض انعم خان نے انجام دیئے ۔


سیمینار کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او فیصل کامران نے میثاق سنٹر کی تشکیل و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ بین المذاہب ہم آہنگی ایک ایسا ایشو ہے جس پر سب سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انتہا پسندی، عدم برداشت اور تشدد کے رحجانات کی صورتحال تشویشناک ہے ۔ بدامنی پھیلانے والوں کی تعداد کم ہے جبکہ امن پر یقین رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم منظم ہو کر قیام امن کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی عدم برداشت کے حالیہ واقعات میں سرگودھا کے عوام کی جانب سے پُرامن ردعمل قابل تحسین ہے ۔پاکستان کے جھنڈے میں سبز رنگ کے ساتھ ساتھ سفید رنگ مینارٹی سے منسوب ھے جو کہ مساوی شہریت کی بہت واضح علامت ہے ۔ انہوں اگلا لائحہ عمل بتاتے ہوئے اساتذہ کی تربیت کا حوالہ دیا۔ معاشرے میں قیام امن کے لئے مثبت پیغامات دینے کی ضرورت ہے۔


شرکاء سے بات کرتے ہوئے آے ڈی سی ارشد وٹو نے سرکار کی جانب سے مینارٹی کے حقوق کے تحفظ و فروغ کے لئے بنآئے گئے ادارے اور مختص کیے جانے والے فنڈز کے حوالہ دیتے ہوئے سرکاری ترجیجات کو اجاگر کیا منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ثناور بالم نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے لئے اس موضوع کے نظریاتی بیان سے بڑھ کر منظم عملی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشرے میں امن پیار و محبت کو پروان چڑھانے کے لئے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس موقع پر ڈائریکٹر کرسچن سٹڈی سنٹر اور بشپ عزرایا سموئیل نے کہا کہ معاشرہ میں اختلافات کا ہونا فطری بات ہے لیکن اس ضمن میں اہم یہ ہے ان اختلافات سے نمٹنے کے لئےمعاشرے کے پاس ممکنہ میکانزم کیا ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مسلمان ، کرسچن یا کوئی بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کی بات کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی بات کرتا ہے اس لئے بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کام کرنا کوئی سرگرمی نہیں بلکہ عقیدہ کی بات ہے ۔ بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے حضورِپاک کی جانب سےمسیحیوں کے ساتھ دائمی امن معاہدوں کا حوالہ دیا ۔


فادر عامر شہزاد نے شرکا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر تشدد اور بمباری کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت فلسطین کے علاقہ میں مصیبت ذدہ مسلمان بہن بھائیوں کو چرچز اور ہستپالوں میں پنا ہ دی گئی ہوئی ہے جو کہ بین المذاہب ہم آہنگی کی زبردست مثال ہے۔


شرکائ سے بات کرتے ہوئے ریاست فیروزی ، پاسٹر خرم شہزاد،پاسٹر مظہر اسلم اور پاسٹر ایڈورڈ ظفرنے مذہبی عدم برداشت پر حالیہ واقعات کے ردعمل اور میثاق سنٹر کے قیام پر خصوصی توجہ کے ردعمل میں ڈی پی او سرگودھا کے اقدامات کو سراہا۔

متعلقہ خبریں