سی این این کی بیکی اینڈرسن کے ساتھ ایک جامع انٹرویو میں ملکہ رانیہ نے عمان کے دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی طرف سے جنگ بندی کو مسترد کرنے پر ردِعمل کا اظہار کیا،
ملکہ رانیہ نے کہا: "جنگ بندی کے لیے ایک اجتماعی مطالبہ ہونا چاہیے اور میں جانتی ہوں کچھ لوگ جو جنگ بندی کے خلاف ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے حماس کو مدد ملے گی۔
تاہم اس دلیل میں وہ ذاتی طور پر موت کو مسترد اور درحقیقت ہزاروں شہریوں کی موت کی تائید اور جواز پیش کر رہے ہیں۔ یہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت، کوتاہ بینی اور مکمل طور پر بے عقلی ہے۔”
ملکہ رانیا نے غزہ میں "تباہ کن انسانی صورتِ حال” کی مذمت کی اور پوچھا: "ہمارے عالمی ضمیر کے بیدار ہونے سے پہلے اور کتنے لوگوں کو مرنا ہوگا؟ یا جب فلسطینیوں کی بات آتی ہے تو یہ ہمیشہ بے حس ہوتا ہے؟”
انہوں نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں تقریباً 10,000 اموات ہو چکی ہیں جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔
انہوں نے کہا۔ "یہ صرف تعداد نہیں ہیں۔ ان بچوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کے لیے سب کچھ تھا۔”
انہوں نے مزید کہا، "غزہ میں ایک مخفف ہے: ڈبلیو سی این ایس ایف۔ یعنی وہ زخمی بچہ جس کا کوئی زندہ خاندان نہیں بچا۔ یہ ایک مخفف ہے جس کا کبھی وجود نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ غزہ میں ہے۔”