کراچی پورٹ پرکوئل سکریب کی آڑ میں کمرشل سامان کی امپورٹ، جس میں لیپ ٹاپ،سگریٹ موبائل وغیرہ نان امپورٹ ایبل چیزیں شامل ہیں کسٹم انٹیلی جنس کی کاروائی کروڑوں کا سامان برآمد۔

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ

کراچی ۔رپورٹ ارشد علی غوری ۔

کراچی پورٹ سے سکریپ کی آڑ میں قیمتی سامان کی امپورٹ کی اطلاع پر کسٹم انٹلیجس کا چورنگی سائیٹ ایریا میں چھاپہ دو عدد کنٹینر تحویل میں لے لیے گئے 30 کروڑ مالیت کا سامان برآمد جبکہ دوسری کاروائی میں الفلاح کنٹینر ٹرمینل سے مزید چار کنٹینر برآمد کر لیے، میسرز وصی انٹرپرائزز، میسرز ہمنا انٹرپرائزر، سینرجی ورلڈ وائیڈ،جنرل ٹریڈنگ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا…

ذرائع کے مطابق دبئی سے دو سکریپ کی کنسائمنٹس درآمدکی گئیں جس میں وائر سکریپ اور استعمال شدہ نائلون کی رسی ظاہرکی گئی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق تمام کنٹینر کراچی پورٹ آف ڈاک ٹرمینل (پی ایم ایس ) الفلاح یارڈ سے کلیئر ہوئے تھے

( پی ایم ایس) الفلاح یارڈ کا لائسنس بھی مشکوک ہے دبئی سے آنے والے کنٹینر کلیئرنس ایجنٹ شہزاد،معیز باوانی اور کامران جو الفلاح یارڈ کمپنی کے انچارج بھی ہیں کلیئر کرواتے جو پہلے سے اسمگلنگ کی ایف آئی آرز میں نامزد ہیں ذرائع کے مطابق اب تک اس گروپ نے 150 سے 200 کنٹینرز کلیئر کروائے ہیں گزارش کی جاتی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف اور ایف بی آر چیئرمین اور ممبر آپریشن صاحبہ انکوئری کروائیں اور ملکی خزانے کو نقصان سے بچائیں۔

متعلقہ خبریں