ایبٹ آباد(نمائندہ خصوصی)
محکمہ اوقاف کے افسران کی غفلت ،لاکھوں روپے کی عدم ادائیگی مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد کا شدید سردی میں سوئی گیس کا میٹر بل کی عدم ادائیگی پر اتار لیا گیا اور بجلی کے بل میں بھی لاکھوں روپے واجبات سے بجلی منقطع کرنے کا خطرہ ہے۔
افسران نے خطیب ہزارہ سمیت محکمہ کے متعدد ملازمین کی تنخواؤں کو بھی 6ماہ سے روک رکھا ہے آمدن بڑھانے کے لئے کرایوں میں اضافہ کرنے کے باوجود خطیر رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے عوام میں تشویش اور غم وغصہ کی لہر پیدا ہو گئی۔جمعہ کے روز محکمہ سوئی نادرن گیس نے مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد کا ایک سال سے دو لاکھ 60ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی پر گیس منقطع کرکے میٹر اتار لیا ہے۔جب کہ بجلی بل کے بھی پانچ لاکھ روپے سے زاہد واجبات ہیں جو کسی بھی وقت واپڈا بجلی منقطع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
مرکزی جامع مسجد سے سوئی گیس میٹر اتارنے کے بعد نمازیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہریوں نے کمشنر ہزارہ سے نوٹس لینے کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ایبٹ آباد میں محکمہ اوقاف کے زیر انصرام مرکزی جامع مسجد کے امور کو چلانے میں بے قاعدگیاں پیدا ہو رہی ہے ،شہر کی سب سے قدیم اور بڑی مسجد میں سہولیات کی عدم فراہمی لمحہ فکریہ ہیں۔
محکمہ اوقاف نے شہر میں مختلف مقامات پر اوقاف کی اراضی اور دکانات کے کرایوں میں أمدن بڑھانے کے لئے اضافہ کیا ہے تاہم زیر انصرام مساجد کے یوٹیلیٹی بلز اور خطیب ہزارہ سمیت مؤزنوں اور خطباء کی تنخواہوں کو گزشتہ پانچ ماہ سے روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کے سخت ترین دور میں سفید پوشی سے وقت گزارنے والے مشکلات سے دوچار ہیں۔
ایبٹ آباد کے شہریوں نے کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام سے محکمہ کی بے قاعدگیوں کا فوری نوٹس لینے ،بند تنخواہوں کی ادائیگی اور یوٹیلیٹی بلز کے معاملات پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے