پیرس سے بلال محمد خان :۰جموں کشمیر ڈیموکریٹک فورم فرانس (JKDFF) نے پیرس کے مقامی ریسٹورنٹ میں انسانی حقوق کے عالمی اعلان کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب کی صدارت جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فورم فرانس کے صدر مرزا آصف جرال نے کی – تقریب میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی – تقریب سے فرانس میں مقیم پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں اور فورمز سے تعلق رکھنے والے مقررین نے خطاب کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارےاور اس کی تاریخ اور اس کے مختلف اداروں بارے تفصیلی گفتگو کی گئی – کااور اس کی کارکردگیوں اور ناکامیوں پر شرکاء نے وسیع بحث کی۔
مختلف مقررین کی تقاریر میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو خراج تحسین پیش کیا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی شرکاء نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ویٹو پاورز کا کردار شدید تنقید کی زد میں آیا کیونکہ یہ طاقتیں کسی نہ کسی صورت میں انتہائی منفی کردار ادا کرتی ہیں جیسا کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک اس وقت غزہ میں بے گناہ انسانوں کے خلاف اقدامات اور جارحیت جیسے اسرائیلی جنگی جرائم کی حمایت کر کے مجرمانہ غفلت اور امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی اندھا دھند بمباری کو 67 واں دن ہو گیا ہے جس میں 7000 معصوم بچوں سمیت 18000سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں اقوام متحدہ کے حکام کو یہ باور کرانے میں ناکام رہی ہیں کہ یہ اعلان متحد طور پر عمل میں لایا گیا ہے اور مضبوط ممالک پوری دنیا میں اس پر عمل درآمد کے لیے اپنا معاشی اور فوجی فائدہ اٹھاتے ہیں، جو کہ منصفانہ نہیں ہے۔
اسی طرح بھارت گزشتہ 76 سالوں سے کشمیریوں کو کچل رہا ہے جبکہ بھارت نے کشمیریوں کو کچلنے کے لیےوادی میں 10 لاکھ فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں کیونکہ وہ کشمیر کے تنازعہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ غزہ میں عالمی میڈیا کو رسائی حاصل ہے جبکہ کشمیر میں بھارت نے کسی مغربی یا بصورت دیگر میڈیا کو کوریج کرنے کی اجازت نہیں دی، لہٰذا دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی یہ زبردست ذمہ داری ہے کہ وہ مودی کو کشمیریوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ بنائیں؟
بھارتی فورسز کشمیر کے اکثریتی مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہیں اور ریاست جموں کشمیر کی آبادی کے مسلمانوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے متعدد غیر آئینی اور غیر انسانی اقدامات کر رہی ہیں۔ اجلاس کی صدارت جے کے ڈی ایف ایف کے صدر آصف جرال نے کی اور راجہ اشفاق چیئرمین کشمیر پیس انٹرنیشنل، کشمیر فورم کے چیف جسٹس ذوالفقار نگیال، جے کے ڈی ایف ایف کے چیئرمین سردار اخلاق، مسلم لیگ ن اصغر خان، راجہ عجائب اور دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے حل اور امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں