الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان کر دینا چاہیے: بلاول بھٹو

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
f5e7c692-641a-4c48-8766-c76549e31f20

الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان کر دینا چاہیے: بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا آج بھی یہی کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد 90 دن میں ہونا چاہیے اور اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ اور الیکشن شیڈول کا اعلان کر دینا چاہیے۔

کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’پی پی پی کا آج بھی یہ مؤقف ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہونا چاہییں مگر دیگر جماعتوں اور الیکشن کمیشن کا خیال ہے کہ الیکشن نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ پی پی پی کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کو ملک میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دینا چاہیے اور الیکشن شیڈول کا اعلان کر دینا چاہیے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ الیکشن کے لیے تیار رہی ہے۔ ’ہماری جماعت 14 مئی کو بھی پنجاب میں الیکشن کے لیے تیار تھی، اور اب بھی آئین کے اندر رہتے ہوئے 90 دن میں الیکشن کے لیے تیار ہے۔‘

الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ ملک میں دوغلی پالیسی کیوں چل رہے ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کی ایک پابندی سندھ پر نافذ العمل ہے تو دیگر صوبوں میں یہ کیوں نافذ العمل نہیں ہے۔ اگر ابھی تک الیکشن کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا ہے تو اس کی بنیاد پر افسران کو تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جو غیرآئینی اور غیرقانونی اعلان کیا ہے ترقیاتی فنڈز کو روکنے کا وہ بھی ملک بھر میں سے صرف ایک صوبے کے لیے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نئی سکیموں اعلان کر رہی ہے اور یہ فیصلہ وہاں وہاں نافذ العمل نہیں نظر آ رہا۔ سندھ میں سیلاب متاثرین کی سکمیں بھی روک دی گئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کردار کشی کی مہم آج سے نہیں بلکہ ماضی سے جاری ہے۔ ’ہم نے ہمیشہ کردار کشی پر مبنی پراپیگنڈا کرنے والوں کو اپنی کارکردگی سے جواب دیا۔‘

انھوں نے کہا اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بیروزگاری ہے اور پیپلز پارٹی کا اسی سے مقابلہ ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’صدر زرداری نے بغیر کسی سزا کے ساڑھے گیارہ سال جیل میں گزارے ہیں مگر آج سننے میں آ رہا ہے کہ جو لوگ جیل میں ہیں انھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کو پیغام ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ اب آپ کی ٹریننگ شروع ہوئی ہے، اب آپ کو سیاستدان بنایا جا رہا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ملک اور اس کی جمہوریت کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ’وہ تمام لوگ جو کٹھ پتلی کی صورت میں لائے جاتے ہیں اور پاکستان پر مسلط کیے جاتے ہیں اور جن کے مسلط ہونے کے نقصانات معیشت سے لے کر قومی سلامتی تک کو نقصان پہنچتا ہے۔ جن کٹھ پتلیوں پر بہت عرصے سے کام چل رہا تھا، انھوں نے بلآخر نو مئی کو فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو پر ہی حملہ کر دیا۔‘

متعلقہ خبریں