لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو 36 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے دینے پر تنازع: ’نئی غلطیاں نہ کریں اس ملک پر رحم کریں‘

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
hc

’میں تو یہ سن کر حیران ہوں کہ ججز کو قرض دیے جا رہے ہیں، وہ بھی سود سے پاک۔ وہ تو پہلے ہی سرکاری گھروں میں رہ رہے ہیں اور انھیں مراعات بھی ملتی ہیں۔‘

لاہور ہائیکورٹ بار کونسل کی سیکریٹری صباحت رضوی نے یہ بات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز کو گھروں کی تعمیر کے لیے منظور کیے گئے بلاسود قرضوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہی۔

پنجاب کی نگران حکومت نے اس مد میں گیارہ ججز کو 36 کروڑ روپے سے زائد کے بلاسود قرضے دینے کی منظوری دی ہے جس کی تصدیق نگراں حکومت کے وزیرِ اطلاعات عامر میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے صوبائی کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے دی گئی اس منظوری پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں ایسے اقدامات سے سرکاری خزانے کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔

متعلقہ خبریں