ہم بحرانوں کے عادی ہیں یا بحران ہمارے تعاقب میں۔ بحران طوفان میں بدل رہے ہیں اور ہم آدھے ادھورے خوابوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
خود سے آنکھیں چار کرنا ہم نے سیکھا نہیں اور غلطیاں دہرانے کا عہد باندھ کر اس مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں آگے سمندر ہے اور پیچھے کھائی۔ اب وقت کہاں کہ یہ سوچا جائے کہ یہ سب کیا، کب اور کیسے ہوا؟ اب تو انتظار ہے کہ یہ سب ایسے، کیسے، یوں کیوں ہوا؟
چلیں مان لیا کہ ہم چاند پر نہیں پہنچ سکتے مگر چاند ہی زمین پر پٹخ ڈالنے کا زعم کیسا۔ ستاروں پر کمند نہیں ڈال سکتے مگر مملکت ستارہ شناسوں کے ہاتھ دینے کی ادا کیسی۔ تاروں سے اٹھکیلیاں نہیں کر سکتے مگر تارے گُم کرنے کے گُر کیسے۔ آخر ہم ایسے کیوں ہیں؟
نہ ہم آزاد نہ ہماری معیشت آزاد اور نہ ہی ریاست آزاد۔ تینوں کا آپس میں جُڑا گہرا تعلق ہمیں جتنا آج محسوس ہو رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ خالی خولی حقیقی آزادی کے نعرے اور غلامی نامنظور کے دعوے نہ تو ہمیں عالمی معاشی سامراج سے نجات دلا سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں آزاد مملکت بنا سکتے ہیں۔