یورپی یونین کا خلیجی ریاستوں کے ساتھ پہلا سربراہی اجلاس

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
WhatsApp Image 2024-10-16 at 10.13.24 PM

ریاض (شین نون) یورپی یونین نے بدھ کے روز خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنی اولین سربراہی کانفرنس کا آغاز کیا جو یورپی یونین کے سفارتی دباؤ کا حصہ ہے کیونکہ وہ روس کو تنہا کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین اور یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مشیل نے سربراہی اجلاس میں آمد پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کیا۔سربراہی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے مشیل نے جی سی سی (خلیج تعاون کونسل کے رکن) ممالک کے ساتھ فوجی و تزویری شراکت داری قائم کرنے کے لیے بلاک کے تیار ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ 1989 میں فریقین کے درمیان باضابطہ تعلقات کا آغاز ہونے کے بعد سے سربراہانِ مملکت اور حکومت کی سطح پر منعقد ہونے والی اولین سربراہی کانفرنس اتحاد اور امید کا ایک پیغام ہے۔
انہوں نے کہا، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتِ حال سے عالمی استحکام کو خطرہ لاحق ہے جس کے پیشِ نظر امید کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے 27 رکنی یورپی یونین دیگر علاقائی بلاکس تک پہنچی ہے اور آسیان ممالک کے ساتھ اپنا اولین سربراہی اجلاس منعقد کیا۔ اس کے علاوہ جزائر غرب الہند (کیریبیئن) اور لاطینی امریکی ممالک کی سی ای ایل اے سی برادری کے ساتھ بھی آٹھ سالوں میں اس کا پہلا سربراہی اجلاس ہوا۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی چھے عرب ریاستوں سے اجلاس کا مقصد ان ممالک کے اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے تعلقات کو مزید تزویری بنانا ہے بالخصوص یوکرین اور شرقِ اوسط کے تنازعات کے تناظر میں۔
یورپی یونین کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، "خلیجی خطہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک سنگم پر واقع ہے۔ یہ آج کے کئی بحرانوں میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔”
بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ یورپی یونین کی شراکت داری تجارت و سرمایہ کاری، قابلِ تجدید توانائی، علاقائی سلامتی اور ویزا جیسے شہری مسائل کا احاطہ کرے گی۔
اگرچہ برسلز چاہتا ہے کہ جی سی سی کے شراکت دار یوکرین پر روس کے فوجی حملے پر سخت مؤقف سے اتفاق کریں لیکن یہ توقع نہیں کر رہا کہ وہ ماسکو کو مورد الزام قرار دینے میں یورپی یونین کا مؤقف مکمل طور پر اپنائیں گے۔ یہ دونوں بلاک شرقِ اوسط کے حوالے سے کافی قریب ہیں جہاں یورپی یونین نے غزہ میں جنگ بندی اور کشیدگی میں وسیع تر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین-جی سی سی کے آزاد تجارتی معاہدے پر 35 سال پہلے شروع ہونے والے مذاکرات 2008 سے تعطل کا شکار ہیں جن میں عوامی ٹینڈرز اور تیل کی مصنوعات پر اختلافات ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے لیے دیگر راستے موجود ہیں

متعلقہ خبریں