نیویارک: پچاس سے زائد ممالک نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور ترسیل فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ممالک سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں مشترکہ طور پر یہ درخواست پیش کر رہے ہیں، جس کا مقصد خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا اور غزہ و مغربی کنارے میں ممکنہ عسکری استعمال پر تشویش کا اظہار ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے اس خط میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی اراضی، لبنان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں عام شہری، بالخصوص بچے اور خواتین بڑی تعداد میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو ناقابل برداشت ہے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ فوری فائر بندی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ سلامتی کونسل سے درخواست کی گئی ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندی عائد کی جائے تاکہ انسانی المیے اور علاقائی عدم استحکام کو روکا جا سکے۔