برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کا خیر مقدم

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
WhatsApp Image 2024-12-08 at 23.03.11_b4a68200

لندن/پیرس/برلن: شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی خبر پر مغربی ممالک نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اور برطانیہ کے رہنماؤں نے اس پیشرفت کو ایک مثبت تبدیلی قرار دیتے ہوئے شام کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "بالآخر جابر ریاست گر گئی۔” انہوں نے شام کے عوام کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ فرانس مشرقِ وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔

جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے اس پیشرفت کو "ایک اچھی خبر” قرار دیا اور شام میں استحکام کے لیے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بشار الاسد پر الزام عائد کیا کہ ان کے ظالمانہ رویے کی وجہ سے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ کئی شامی شہریوں کو ملک چھوڑ کر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا، جن میں سے بہت سے افراد جرمنی میں آباد ہوئے۔

برطانیہ کی نائب وزیراعظم انجیلا رینر نے کہا کہ اگر بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے تو برطانیہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہے۔

روس کی تصدیق
روسی حکام کے مطابق بشار الاسد نے عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل مختلف فریقین کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ روس نے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن اس پیشرفت کو شام کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا۔

شام میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعے میں یہ تبدیلی ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ ہو سکتی ہے، تاہم عالمی برادری شام میں استحکام اور عوامی بھلائی کے لیے مسلسل حمایت جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں