آصف زرداری اور بلاول کے متضاد بیانات، ’یہ شریف برادران کی نقل ہے‘

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
bilawal
پاکستان کے آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن(ای سی پی) نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے اور زور دیا کہ ای سی پی آئین کے مطابق الیکشن کروائے‘ جبکہ بلاول بھٹو زرادری نے اس کے بالکل برعکس رائے کا اظہار کیا ہے۔
اس کے بعد سنیچر کو صوبہ سندھ کے شہر بدین میں بلاول بھٹو زراری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صرف گھر کی باتوں پر ہی سابق صدر آصف زرداری کا پابند ہوں۔ سیاسی و آئینی معاملات میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی پابندی ضروری ہے۔‘
سنیچر ہی کو حیدر آباد میں بلاول بھٹو زرادری نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ 90 دن میں الیکشن نہیں ہوسکتے، 90 دن تو بہت دور ہیں 60 دن میں الیکشن ہونے چاہیے تھے، 90 دن میں بھی نہیں کرانا چاہتے تو الیکشن کب کرائیں گے؟‘
اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا بلاول بھٹو زراری اور ان کے والد آصف زرداری آمنے سامنے آ چکے ہیں اور پھر یہ بیانات ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان بیانات سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پیپلز پارٹی میں کوئی دراڑ پڑ رہی ہے، درست نہیں۔ بعض تجزیہ کار ان بیانات کو محض ’نمائشی پریکٹس‘ قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں