فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر اسرائیل اور اس کا اتحادی امریکہ ناراض ہو گئے ہیں اور غزہ میں تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل سفارتی کوششوں کا مرکز بن گیا ہے۔ دیگر مغربی ممالک نے بھی فرانس کی تقلید میں ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک خط میں میکرون نے لکھا تھا، "فلسطینی عوام کے اپنی ریاست دیکھنے کے لیے ہمارا عزم اس یقین پر مبنی ہے کہ ریاست اسرائیل کی سلامتی کے لیے دیرپا امن ضروری ہے۔”
میکرون نے مزید کہا، فرانس کی سفارتی کوششیں "غزہ میں خوفناک انسانی تباہی پر ہمارے غم و غصے سے پیدا ہوئی ہیں جس کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا”۔ اسرائیل نے جمعہ کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کو جنگی علاقہ قرار دے دیا جبکہ اس علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 63,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔