پیرس ( بلال محمد خان سے )
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 6 نومبر 1947 کو جموں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔مقررین نے مزید کہا کہ ہندو بلوائیوں اور ڈوگرہ ملٹری نے بدترین حملوں میں ایک ہفتے کے اندر چار لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا اور بڑی تعداد میں خواتین کو اغوا کر لیا ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر ڈیموکریٹک فورم فرانس کے بانی صدر مرزا آصف جرال نے کہا کہ لاکھوں مسلمان شہریوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا اور ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
مرزا آصف جرال نے کہا کہ جموں میں ایک منظم منصوبہ کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تاکہ مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے ۔
انہوں نے کہا کہ”بھارت نے ایک بار پھر 1989 کے بعد کشمیری مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا اور غالب مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی۔
مرزا آصف جرال نے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا جو سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی اقدام ہے۔انہوں نے شہدائے جموں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا۔
مرژا آصف جرال نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے میں مسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔
کانفرنس سے چیرمین فورم فرانس سردار اخلاق احمد، سردار ذوالفقار عزیز ،چوہدری مقصود احمد، چوہدری مجسم رشید، انجم جرال چوہدری ذوالفقار نگیال جسٹس فار کشمیر نے بھی اظہار خیال کیا ۔۔۔