جولائی 1999 میں متنازع خطۂ کشمیر کے علاقے کارگل میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں تھی جب لندن میں بی بی سی اُردو سروس کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے کے لہجے میں پریشانی نمایاں تھی۔
بی بی سی اُردو سروس کے سابق سربراہ عباس ناصر نے اِس فون کال کا تذکرہ اپنے ایک کالم میں کیا جو مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے اس پُرتشدد احتجاج کے تناظر میں لکھا گیا تھا جس میں کارگل جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی افسر کیپٹن کرنل شیر خان کا مردان شہر میں نصب مجسمہ بھی گِرا دیا گیا تھا۔
روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں عباس ناصر نے لکھا کہ یہ منظر ہجوم کو شاید انقلابی محسوس ہوا ہو، لیکن اُن کے نزدیک اس نے کیپٹن کرنل شیر خان کے اہلِخانہ کے زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے۔ اِسی تناظر میں انھوں نے اُس فون کال کا ذکر کیا جو انھیں کارگل جنگ کے آخری دنوں میں موصول ہوئی تھی۔