دوحہ: جمعرات کے روز قطر کے صدر مقام دوحہ میں ایک اہم سہہ فریقی اجلاس منعقد ہوا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اس اجلاس سے متعلق بریفنگ لینے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہےکہ اجلاس میں قطری وزیر اعظم، امریکی سی آئی اے اور اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد کے ڈائریکٹر لیول کے حکام شریک ہوئے،
اجلاس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کے خدوخال اور غزہ پر حملے میں توقف جسے امور زیر بحث آئے۔
ذرائع کے مطابق سہہ فریقی اجلاس کا مقصد تمام فریقوں کو بیک وقت میز پر بٹھانا تھا تاکہ حل طلب امور کو منطقی انجام تک لے جانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے
۔مذاکرات کے دروان غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضروری اشیا درآمد کرنے کی اجازت دینے سے متعلق
امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا
دوسری جانب
ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے جمعرات کو دوحہ میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس ’’موساد‘‘ کے سربراہ اور قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کی ہے
۔ اس ملاقات میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ اجلاس ہوا اور سی آئی اے ڈائریکٹر برنز نے اس میں شرکت کی تھی۔ خبر رساں ادارے نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں