پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید مہنگا ہو گیا ہے

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
image-26

پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی تبدیلی جو اخیراً ہوئی ہے، اسے محسوس کرنا ممکن ہے۔ یہ ایک عام تازہ ترین خبر ہے جو بیرونی ماحولیات کے باعث ہوسکتی ہے۔

تعیناتی خریداری اور بیچنے والے احتیاط رکھتے ہیں جب کسی ملک میں کرنسی کی قیمت تبدیل ہوتی ہے۔ یہ قیمتیں عموماً مختلف عوامل کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں مثلاً سیاسی صورتحال، معیشتی معیار، اور بین الاقوامی تجارتی روابط وغیرہ۔ امریکی ڈالر کی قیمت کی تبدیلی گزشتہ سالوں میں پاکستانی روپے کے حوالے سے متعدد باروں پر نظر آئی ہے۔

بنیادی طور پر، اگر ایک ملک کے لئے امریکی ڈالر کی قیمت بڑھا ہوتی ہے، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس ملک کی محلی کرنسی کی قیمت گھٹ رہی ہے۔ بالعکس، اگر امریکی ڈالر کی قیمت کم ہوتی ہے، تو محلی کرنسی کی قیمت بڑھتی ہے۔ یہ اقتصادی تغیرات کی نمایاں علامتیں ہوتی ہیں جو ممکن ہے عوام کو معیشتی سنگینی کا سامنا کرنا پڑے۔

حاصل رقم کی جوابدہی کرتے وقت، ہمیں اہمیت دینی چاہیے کہ کرنسی کی قیمتیں دن بدن تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور یہ ہماری مالی ترجیحات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ تاہم، جب تک اس تبدیلی کا باعث کامیابی سے سمجھا جا سکے، ہماری اطلاعات پر اثر ڈالنے سے بہتر ہوتا ہے اور ہمیں خود کو احتیاط میں رکھنا چاہیے۔

اخیراً پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر مہنگی ہوگئی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں کرنسیوں کی قیمتوں پر زیادہ بہتر کنٹرول رکھا جا سکے تاکہ عوامی بدلتے حالات کا خیال رکھا جا سکے اور معیشتی تناؤ کو کم کیا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق آج انٹربینک میں امریکی ڈالر10پیسے مہنگا ہوا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر آج 285 روپے 37 پیسے پر بند ہوا ہے  جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 50 پیسے اضافے سے 286 روپے 50 پیسے ہے۔

متعلقہ خبریں