شامی فورسز اور ترکیہ کے وفادار دھڑوں کے درمیان جھڑپیں، 200 افراد جاں بحق

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
WhatsApp Image 2024-12-02 at 00.10.14_e4054450

سیریئن آبزرویٹری نے اعلان کیا ہے کہ حلب اور ادلب کے دیہی علاقوں میں ہونے والی لڑائیوں میں شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے 200 ارکان مارے گئے ہیں۔ شام کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ مسلح تنظیموں نے کل حلب اور ادلب کے دیہی علاقوں میں ایک بڑا حملہ کیا اور وہ اس حملے کا مقابلہ کر رہی ہے۔ شامی تنظیموں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ادلب کے جنوب میں جبل الزاویہ میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر حملہ شروع کر دیا اور حلب کے مغرب میں واقع مھندسین الثانی کے دیہی علاقوں پر بھی اپنے کنٹرول کا اعلان کر دیا ہے۔

شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ایک نئے اعداد و شمار کے مطابق جھڑپیں ملک کے شمال مغرب میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک ایسے وقت میں شروع ہوئیں جب شام کی وزارت دفاع نے حلب اور ادلب ک دیہی علاقوں میں ایک بڑے حملے کو پسپا کرنے کی اطلاع دی۔

آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ 24 گھنٹوں سے جاری لڑائیوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد 132 ہوگئی ہے۔ جن میں ’’ ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ کے 65، قومی فوج کے دھڑوں کے 18 اور حکومتی فورسز کے 49 ارکان شامل ہیں۔
آبزرویٹری کے مطابق یہ لڑائیاں جو ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں میں ہو رہی ہیں اس خطے میں برسوں سے "پرتشدد” سمجھی جارہی ہیں۔ یہ حلب شہر کے مضافات سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقوں میں ہو رہی ہیں

متعلقہ خبریں