تباہ شدہ فلسطینی علاقے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی خاطر عرب اور مسلم وزرا کا وفد اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں پیر کو بیجنگ پہنچا جہاں انہوں نے غزہ پر جنگ فوری خاتمے مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک
ٹویٹر
وٹس ایپ
WhatsApp Image 2023-11-21 at 7.08.11 AM

روئٹرز کے مطابق عرب اور مسلم اکثریت والے ممالک کے اعلی سفارت کاروں کا یہ وفد مغرب پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف دفاع کے جواز کو مسترد کرے۔

چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں سے ایک ہے۔

پیر کو چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی سے ملاقات کرنے والے عہدیداروں میں سعودی عرب، اردن، مصر، انڈونیشیا، فلسطین اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلی عہدیدار شامل ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا کہ ہم یہاں سے ایک واضح پیغام بھیجنے آئے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر لڑائی اور اموات کو روکنا ہوگا، ہمیں فوری طور پر غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنی ہوگی

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ بیجنگ عرب اور مسلم ممالک کا اچھا دوست اور بھائی ہے اور اس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور مفادات کی بحالی کی بھرپور حمایت کی ہے

چین کی وزارت خارجہ نے حماس کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کی بجائے کشیدگی کم کرنے اور اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ آزاد فلسطین کے لیے ’دو ریاستی حل‘ کی طرف بڑھیں,


آج، پیر کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مزید کہا کہ چین ’غزہ میں لڑائی کو جلد از جلد ختم کرنے، انسانی بحران کو کم کرنے اور فلسطین کے مسئلے کے جلد، جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے کام کرے گا

متعلقہ خبریں